15 جون 2009 - 19:30

امریکی حکام نے حال ہی میں دعوی کیا تھا کہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوچکا ہے.

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے میڈیا کے نمائندوں سے جنوبی وزیرستان میں ملاقات کی ۔حکیم اللہ محسود کے بارے میں پاکستانی اور امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تنظیم کی سربراہی کے معاملے پر ایک جھڑپ کے دوران مارے جاچکے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے پانچ صحافیوں پر مشتمل ایک گروپ نے طالبان کی دعوت پرہفتہ کو جنوبی وزرستان گئے تھے جہاں پر ان کی ملاقات تنظیم کے سربراہ حکیم اللہ محسود سے کرائی گئی۔امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکیم اللہ محسود اور دیگر طالبان کے کمانڈروں نے میڈیا سے اتوار کے روز بات اس شرط پر کی کہ وہ انٹرویو سوموار کو چلائیں گے۔ اس انٹرویو میں حکیم اللہ نے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ چند روز قبل امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے مخالف کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہوچکا ہے۔ صحافیوں کی تازہ ملاقات سے اب اس بات کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق ہوگئی ہے کہ حکیم اللہ محسود زندہ ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت نے جنوبی وزیرستان میں ممکنہ فوجی کارروائی میں طالبان جنگجوؤں کے مورال کو پست کرنے کے لیے ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا تاہم اب آزاد ذرائع سے اس کی ہلاکت کی تردید سے لوگوں کی نظروں میں حکومتی ساکھ کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔